صدر بائیڈن کو جوہری فٹ بال اور بسکٹ پیش کردیا گیا

امریکا کے 46ویں صدر جو بائیڈن نہ صرف دنیا کے سب سے طاقتور شخص بن گئے ہیں انہیں دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر کے اختیارات کے ساتھ 22 کلو وزنی ایک سوٹ کیس بھی پیش کردیا گیا ہے جس میں امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے والے خفیہ کوڈ موجود ہیں.یہ سوٹ کیس ہر وقت امریکی صدرکے قریب رہتا ہے اور عام طور پر جانے والا صدر آنے والے صدر کو اپنی موجودگی میں یہ سوٹ کیس پیش کرتا ہے مگر چونکہ ٹرمپ بائیڈن کی جیت کو تسلیم نہیں کرتے اور حلف برداری کی تقریب کے وقت وہ واشنگٹن کی بجائے فلوریڈا روانہ ہوگئے تھے اس لیے سوٹ کیس کی منتقلی ایک مسئلہ بن گئی تاہم امریکی حکام نے ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک فارمولا بنا رکھا ہے جس کے تحت صدر ٹرمپ کے پاس موجود جوہری فٹ بالاور اس کے کوڈ 20جنوری کو واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق11بجکر59منٹ پر خودکار طریقے سے ناکارہ ہوگئے تھے.لہذا پروٹوکول کے مطابق صدر بائیڈن کو پورے12بجے ایک نیا جوہری فٹ بال اور بسکٹمہیا کردیا گیاممکن ہے اپنی طبعیت کے مطابق صدر ٹرمپ اسے ایک یادگار کے طور پر پاس رکھنا چاہتے ہیں اگرچہ وہ اب محض ایک ناکارہ چیز ہے تاہم امریکی حساس ادارے اسے اگلے24گھنٹوں میں فلوریڈا سے واپس لے آئیں گے لہذاٹرمپ یہ سوئنیرہمیشہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے.سیاہ چمڑے کا یہ سوٹ کیس ایٹمی فٹ بال کہلاتا ہے یہ بم پروف ہوتا ہے اور اس کے اندر المونیم کا مضبوط بکس ہوتا ہے جس کے اندر ایٹمی ہتھیاروں کے کوڈ درج ہوتے ہیں ان خفیہ کوڈز کی مدد سے امریکی صدر دنیا میں کہیں بھی ایٹمی حملہ کرنے کا حکم دے سکتا ہے یہ دو تہہوالے خفیہ کوڈ ہونے ہیں ایک کوڈ صدر کی پہچان کا ہوتا ہے جو ہر امریکی صدر کو زبانی یاد کروا کر وایا جاتا ہے دوسرا کوڈ جسے بسکٹ کہا جاتا ہے اس پر درج ہوتا ہے صدر کلنٹن اپنے عہد صدارت میں اس کارڈ کو گم کربیٹھے تھے اس معاملے کو امریکی حساس ادارے نے انتہائی خفیہ رکھا اس کے بعد کوڈ کا میکنزم تبدیل کیا گیاجس کے تحت صدر کو چند ہفتوں کے بعد نیابسکٹپیش کیا جانے لگا بل کلنٹن سے پہلے صدر جان ایف کینڈی کے پاس موجود بسکٹاس وقت گم ہوگیا تھا جب ان پر قاتلانہ حملے کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا جارہا تھا اسی طرح صدر جمی کارٹرنے اپنا بسکٹگم کردیا تھا جب وہ اپنا سوٹ ڈرائی کلین کے لیے بجھواتے ہوئےجوہری کوڈزپر مشتمل اپنابسکٹسوٹ جیب سے نکالنا بھول گئے تھے.صدر بل کلنٹن کے ایک فوجی معاون رابرٹ پیٹرسن نے انکشاف کیا تھا کہ کلنٹن نے ان کوڈز کو گم کردیا تھا ان کے مطابق کلنٹن اس بسکٹ کو اپنی پینٹ کی جیب میں اپنی کریڈٹ کارڈز کے ہمراہ ایک ربر بینڈ میں رکھتے تھے رابرٹ پیٹرسن کے مطابق ایک صبح جبمونیکا لیونسکی کا سکینڈل منظر عام پر آیا تو کلنٹن نے تسلیم کیا کہ انہوں نے کچھ وقت کے لیے یہ کوڈز نہیں دیکھے تھے.امریکی سٹریٹیجک کمانڈ کے ایک ماہر سی رابرٹ نے کمیٹی کو بتایاکہ جیسا کہ ان کی تربیت کی گئی ہے وہ امریکی صدر کے جوہری ہتھیاروں کو لانچ کرنے کے حکم کی صرف اس صورت میں پیروی کریں گےجب وہ قانونی ہوایٹمی فٹ بال کے اندر کمیونیکیشن کا ناقابل تسخیر نظام ہوتا ہے اس میں ایک ایسا ٹیلی فون بھی ہوتا ہے جس کو جام نہیں کیا جاسکتا اس کے ذریعے امریکی صدر ہر قسم کے حالات میں پینٹاگون کے ساتھ رابطے میں رہ سکتا ہے اور کہیں سے بھی ایٹمی حملے کا حکم دے سکتا ہے.امریکی محکمہ دفاع کی ویب سائٹ کے مطابق یہمعلومات انتہائی خفیہ ہوتی ہیں اور عام شہری کا ان سے کوئی سروکار نہیں محکمہ دفاع نے کبھی صدر جان ایف کینڈیجمی کارٹراور بل کلنٹن کے بسکٹسکی گمشدگی پر بات نہیں کی تاہم امریکی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ محکمہ دفاع کے مطابق پاس کم از کم جوہری فٹ بال ہوتے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق وقت کے ساتھ جوہری فٹ بالکو محفوظ تر بنانے کے لیے اس میں بہت ساری تبدیلیاں کی گئی ہیں اور بسکٹکے کوڈ وفتافوقتا تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔