خواجہ آصف کی دبئی کے ریسٹورنٹ میں پارٹنرشپ کے شواہدمل گئے،نیب کے اہم انکشافات

نیب کو مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف کی دبئی کے معروف ریسٹورنٹ میں پارٹنرشپ کے بھی شواہد مل گئے، خواجہ آصف کی طارق میر اینڈ کمپنی میں پارٹنرشپ ہے،تفصیلات کے مطابق نیب نے خواجہ آصف کی تفتیش سے متعلق رپورٹ احتساب عدالتمیں جمع کرادی، تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خواجہ آصف کی دبئی کے معروف ریسٹورنٹ میں پارٹنرشپ رہی جبکہ انھوں نے دبئی کی کمپنی میں ملازمت بھی اختیار کر رکھی ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف کے مطابق 2012میں انہوں نے ریسٹورنٹ سے شراکت داری ختم کی اور 2017میں انہوں نے ملازمت بھی ترک کر دی تھی،نیب رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف کی طارق میر اینڈ کمپنی میں پارٹنرشپ ہے، طارق میراینڈکمپنی کے اکاؤنٹ میں 2009میں 100ملین کی ٹی ٹیزبھیجی گئیں تاہم خواجہ آصف شراکت داری اور ملازمت سے متعلق تاحال ریکارڈ فراہم نہیں کر سکے۔دریں اثنا نیب نے خواجہ آصف کی 10بڑی کمپنیوں میں انویسٹمنٹ اور شئیرز کا پتا بھی لگالیا ، جس میں بتایا گیا کہ خواجہ آصف نے 2010 سے 2020 تک سرمایہ کاری کی اور شیئرخریدے۔نجی ٹی وی کے مطابق قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ن )کے رہنما خواجہ آصف کیخلاف تحقیقاتی رپورٹ احتساب عدالت میں جمع کرادی ،جس میں بتایا گیا کہ نیب نے خواجہ آصف کی 10 بڑی کمپنیوں میں انویسٹمنٹ،شئیرزکاپتا لگالیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ نیب نے پرائیویٹ بروکرسے خواجہ آصف کے شئیرز کی تفصیلات حاصل کیں، جس کے مطابق خواجہ آصف کے آئی ٹی کی ایک کمپنی میں ایک کروڑسے زائد کے شئیرز، 3 بینکوں میں ایک کروڑ16لاکھ سے زائد کے شئیرز اور سوئی سدرن گیس پائپ لائنزمیں 77لاکھ سے زائد کے شیئرہیں۔نیب نے بتایا کہ خواجہ آصف اینگروکارپوریشن اورنیشنل ریفائنری لمیٹڈ میں 9 لاکھ 34 ہزارکے شیئر ، نجی فارماسیوٹیکل کمپنی میں 4 لاکھ 42 ہزاراورنجی کمپنی میں 7 لاکھ سے زائد شیئر کے مالک ہیں، خواجہ آصف نے2010 سے 2020 تک سرمایہ کاری کی اور شیئرخریدے۔