بجلی کے گردشی قرضے 2300ارب روپے سے تجاوز سالانہ سود ادائیگی 20 ارب، حکومت سر جوڑ کر بیٹھ گئی

بجلی کے گردشی قرضے 2300 ارب روپے ہوگئے جن پر سالانہ 20ارب روپے سود دیا جا رہا ہے۔موجودہ گردشی قرضوں میں 60 فیصد سود کی رقم شامل ہے۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق سنٹرل پاورپرچیزنگ ایجنسی کے ذرائع نے بجلی کے شعبہ میں اصلاحات کے حوالے سے کہا کہ گردشی قرضوں میں کمی کیلئے آئی پی پیز سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیلئے بات چیت چل رہی ہے جس کے تحت جس وقت بجلی کی ضرورت ہو تب پلانٹ چلانے کی ادائیگی ہو گی ورنہ ادائیگی نہ ہو گی۔ آئی پی پیز کے 90پلانٹس ہیں جن کو پلانٹ چلنے اور نہ چلنے دو نوں صورتوں میں ادائیگی کرنی ہو تی ہے 40پلانٹس سے معاہدوں پر دستخط کے لئے بات چیت چل رہی ہے، سب سے زیادہ مشکل سی پیک کے تحت شروع ہونے والے آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت میں ہو رہی ہے کیونکہ وہ چین اور پاکستان کے درمیان ریاستی معاہدوں کے بعد قائم کئے گئے، حکومت بجلی کے گردشی قرضوں سے چھٹکارے کے لئے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے اور نئے آئی پی پی پلانٹ کو این او سی دینے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔