ٹیکسٹائل پالیسی 2020-25کی منظوری ابھی تک تعطل کا شکار حکم عدولی میں کون کون آگے ہے

وزیر اعظم عمران خان کی دو بار اجازت کے بعد بھی ٹیکسٹائل پالیسی 2020-25کی منظوری ابھی تک تعطل کا شکار ہے جیسا کہ بہت سے اہم اقتصادی وزرا اور وزیر اعظم کے خصوصی معاونین پالیسی کی پورا زور لگاکر مخالفت کرتے ہوئے حکم عدولی کر رہے ہیں۔روزنامہ جنگ میں خالد مصطفی کی شائع خبر کے مطابق وزارت تجارت نے متعدد بار ای سی سی کے ایجنڈے میں ٹیکسٹائل پالیسی کو شامل کیا لیکن ای سی سی کے کچھ ارکان ٹیکسٹائل پالیسی کی منظوری دینے کے لئے تیار نہیں ہیں جو پانچ سال کے لئے 7.5 سینٹ فی یونٹ بجلی کے نرخ اورفی ایم ایم بی ٹی یو 6.5 ڈالر پر آر ایل این جی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اور یکم مارچ 2021 سے برآمدی صنعت کے لئے کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پی) کو گیس کی فراہمی روکنے کے فیصلے کے لئے انہی ارکان نے کابینہ کی کمیٹی برائے انرجی (سی سی ای ای) میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب برآمدات کے شعبے کو یکم مارچ سے صرف 9 سینٹ فی یونٹ قومی گرڈ سے آنے والی غیر متوقع بجلی پر انحصار کرنا پڑے گا۔سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود کو ای سی سی کے مختلف اجلاسوں میں کچھ معاشی وزرا نے عاجز کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید مخالفت سے مشتعل دائود نے وزیر اعظم کوآگاہ کرنے کا فیصلہ کیاکہ انہیں ٹیکسٹائل پالیسی پر بہت زیادہ مخالفت کا سامنا ہے اور وہ اس وقت تک اسے ای سی سی میں نہیں لے جارہے جب تک کہ وزیر اعظم اس معاملے پر اجلاس کی صدارت نہیں کرتے۔ ذرائع نے بتایا کہ دائود کی دلیل ہے کہ اگر انڈیا ، بنگلہ دیش اور ویتنام میں صنعتیشعبوں کو فراہم کی جانے والی بجلی اور گیس کی علاقائی شرح سے محروم رکھا گیا تو برآمدی صنعت اپنی منڈی کھو دے گی۔ اگر ٹیکسٹائل پالیسی کو منظور نہ کیا گیا تو ملک کی برآمدات میں حالیہ اضافے کا خاتمہ ہوگا۔ مجوزہ ٹیکسٹائل پالیسی 2020-25 میں مذکور 7.5 سینٹ فی یونٹ بجلی کے نرخ کا مطالبہ کچھ وزرا کے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔