نئی دہلی کے بعد سری نگر میں بھی پاکستانی پرچم لہرا دیئے گئے

بھارتی دارلحکومت نئی د ہلی میں خالصتان کا جھنڈ ا لہرانے کے بعد سری نگر کی جامع مسجد کے دروازے پر بھی پاکستانی پرچم لگا دیا گیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے یوم جمہوریہ پر مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں پاکستانیپرچم لہرایا گیا، پاکستانی پرچم سری نگر کی جامع مسجد کے دروازے پر لگایا گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وادی میں بھارتی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی تاہم ان کی موجودگی میں ہی کشمیری نوجوانوں نے پاکستانی پرچم لگایا، اور کشمیریوں نے بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پرمنایا گیا ۔دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ بھارت میں کسانوں کی حالیہ تحریک بغاوت کی شکل اختیار کرکے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقعے پر کسانوں کی احتجاجی ریلی کے بعد دہلی کے لال قلعے پر دھاوا بول کر سکھ مذہب اور کسان تحریک کے جھنڈے لہرانے کے واقعات نے پوری دنیا میں مودی سرکار کی تباہ کْن پالیسیوں کی جانب متوجہ کرلیا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے 2019 میں دوسری بار برسر اقتدار آنے کے بعد نریندر مودی کی پالیسیوں کے باعث بھارت میں داخلی بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ مودی حکومت کی جانب سےپہلے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا کا یک طرفہ اقدام اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی نے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر مسائل سے دو چار کیا۔اسی برس مودی سرکار نے شہریت کا متنازع قانون بنایا جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس قانون کے خلاف بھی بھارت میں احتجاجی لہر پیدا ہوئی اور دہلی کے شاہین باغ میں طویل عرصے تک مسلمان مردوخواتین کا دھرنا جاری رہا۔مودی حکومت کورونا وائرس کے معاشی و سماجی اثرات کا مقابلہ کرنے میں بھی ناکام رہی اور متنازع زرعی قوانین کی منظوری کے بعد مودیحکومت نے بھارت میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔کسانوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے دو مہینوں سے زائد عرصے سے وفاقی دارالحکومت کا گھیرائو کررکھا ہے اور 26 جنوری کو لال قلعے کی جانب مارچ کرنے کااعلان کیا تھا۔ گزشتہ روز ہونے والےواقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے یہ احتجاج ایک بغاوت کی صورت میں پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔زرعی ماہر اور سماجی کارکن دیویندر شرما نے امریکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسان صرف اصلاحات کے لیے احتجاجنہیں کررہے بلکہ یہ تحریک بھارت کے پورے معاشی ڈھانچے کو تبدیل کردے گی۔ آپ کو آج جو غصہ نظر آرہا ہے اس کے کئی محرکات ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں معاشی عدم مساوات بڑھتی جارہی ہے اور کسان غریب سے غریب تر ہورہا ہے۔ بھارت کے پالیسی سازوں نے کبھی اسپر توجہ ہی نہیں دی اور اوپر سے نیچے تک نظام کا خون چوس رہے ہیں۔ یہ کسان تو صرف اپنا حق مانگ رہے ہیں۔اس سے قبل مودی حکومت نے کسانوں کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جس میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی اور بعدازاں اس احتجاجی تحریک کو تتر بتر کرنے کے لیےمختلف ہتھ کنڈے استعمال کیے۔امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کسانوں کے احتجاج نے بھارت کے قومی دن کی تقریب کو، جس میں وہ اپنی دفاعی قوت کی بھرپور نمائش کرتا ہے، پس منظر میں دھکیل دیا۔ 26 جنوری 1950 کو بھارتی آئین منظور ہونے کی یاد منانے کے لیے منعقد ہونے والی فوجی پریڈ پر کسانوں کا احتجاج غالب آگیا۔