پاکستانیوں سمیت اڑھائی لاکھ غیر ملکی ورکروں کو سعودی عرب سے نکال دیا گیا

سعودی عرب میں گذشتہ سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران میں 257000 غیرملکی تارکین وطن ورکر آبائی ممالک کو لوٹ گئے ہیں یا دوسرے ممالک میں منتقل ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے جاری کردہ حالیہاعدادوشمار میں بتایاگیا 2020 کی تیسری سہ ماہی میں مملکت کی لیبرمارکیٹ میں غیرملکی مزدوروں کی تعداد قریبا ایک کروڑ دو لاکھ رہ گئی تھی۔اس سے پہلی سہ ماہی میں یہ تعداد ایک کروڑ چار لاکھ 60 ہزار تھی۔2020 کی تیسری سہ ماہی کے دوران میں سعودی ملازمین کی تعداد میں قریبا 82 ہزار کا اضافہ ہوا ہے۔اب سعودی ملازمین کی کل تعداد ساڑھے 32 لاکھ ہوگئی ہے جبکہ دوسری سہ ماہی میں سعودی ورکروں کی تعداد 31 لاکھ 70 ہزار تھی۔سعودی عرب میں غیرملکی ورکروں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے افرادی قوت کی مجموعی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔تیسری سہ ماہی کے دوران میں قریبا پونے دو لاکھ ورکروں کی تعداد کم ہوئی تھی اور سعودی عرب میں کام کرنے والے ورکروں کی تعداد کم ہوکر ایک کروڑ 34 لاکھ 60 ہزار ہو چکی تھی۔دوسری سہ ماہی میں کام کرنے والی افرادی قوت کی تعداد ایک کروڑ 36 لاکھ 30 ہزار تھی۔مملکت میں گذشتہ سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران میں خالیہونے والی ملازمتوں کی جگہ نئے افراد کے تقرر اور ملازمتوں کو مقامی رنگ دینے کے پیش نظر قریبا 72 ہزار نئے ویزے جاری کیے گئے تھے جبکہ دوسری سہ ماہی میں 49 ہزار ویزے جاری کیے گئے تھے۔اس طرح تین ماہ میں 23 ہزار نئے ویزے جاری کیے گئے تھے۔گذشتہ سالکی دوسری سہ ماہی کے دوران میں سعودی حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اپنی بری، بحری اور فضائی سرحدیں بند کردی تھیں اور شہریوں اور مکینوں کے اندرون ملک اور بیرون ملک سفر پر پابندی عاید کردی تھی۔ادارہ شماریات کے فراہم کردہ اعداد وشمار کےمطابق 2020 کی تیسری سہ ماہی میں سرکاری شعبے میں کام کے لیے دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں 66 سو کم ویزے جاری کیے گئے تھے اور قریبا 52 سو ویزے جاری کیے گئے تھے جبکہ دوسری سہ ماہی میں غیرملکیوں کو مملکت میں کام کے لیے 11800 ویزے جاری کیے گئے تھے۔