کسانوں کی بدحالی کی وجہ حکومتوں کے ناکافی اقدامات ہیں، ڈاکٹر عبدالجبار

اوکاڑہ (ملک ظفر )کسان بورڈ پنجاب وسطی کے صدر ڈاکٹر عبدالجبار خان نے کہاہے کہ پاکستان کا کاشتکار جس طرح بد حالی اور مشکلات کا شکار ہے اس کی واحد وجہ زرعی ملک ہونے کے باوجود کسی بھی برسراقتدار آنے والی حکومت کی جانب سے کسانوں کی فلاح و بہبود اور زراعت کی ترقی کیلئے کوئی اقدام نہ کرنا ہے۔ ماضی میں گندم کے کاشتکار جس طرح اپنی گند م فروخت کرنے کیلئے دربدر بھٹکتے رہے کسی نے ان کا احساس نہ کیا اس برس جب گند م کی پیدار وار کم ہوئی اور کچھ موسمی حالات نے کسانوں کی کمر توڑ دی حکومت نے کسانوں کے گھروں سے بیج کیلئے رکھی ہوئی گندم بھی نکال لی۔ انہوں نے یہاں سے جاری ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے کسان بور ڈ کے مطالبہ پر گنے کے کاشتکاروں کی سہولت کیلئے ایک ترمیمی آرڈینینس جاری کیا تھا جس کی مدت مارچ میں ختم ہو رہی ہے۔ اس آرڈیننس کے تحت شوگرملوں کو تاخیر سے کریشنگ سیزن شروع کرنے، کسانوں کو بروقت ادائیگی نہ کرنے پر بھاری جرمانے کئے جا سکتے ہیں۔ اسی آرڈینینس کی بدولت شوگر ملیں کسانوں کو گنے کی قیمت بر وقت ادائیگی کر رہی ہیں۔ اس لئے کسان بورڈ پاکستان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس آرڈیننس کو باقاعدہ قانون کی شکل دے دی جائے تاکہ مستقبل میں بھی کسانوں کو اس سے مدد ملتی رہے۔ اور شوگر مافیا پر حکومتی گرفت مضبوط رہے اس سے حکومت کو ٹیکس وصول کرنے میں بھی سہولت ہو گی ان کا مزید کہناتھاکہ یہ مرکز کی ہدایت ہے کہ اس آرڈیننس کی میعاد کل ختم ہورہی ہے اس لیئے ہر ضلع پریس کانفرنس کر کے اس آرڈیننس کو قانون بنا کر پاس کرکے کے ایکٹ کا حصہ بنانے کا مطالبہ کریں۔