’’ آپ آئین نہیں کسی اورکے تابع لگتے ہیں‘‘ جسٹس قاضی فائرعیسی نے چیف الیکشن کمشنر کی کلاس لے لی

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بلدیاتی انتخاب کا شیڈول طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر، اراکین کے ساتھ اجلاس کریں اور اس میں الیکشن شیدول کا معاملہ دیکھیں، مزید یہ کہ اس کی پیش رفت رپورٹ 4 فروری کو جمع کرائیں جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بلدیاتی انتخابات نہ کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کےدوران ریمارکس دئیے ہیں کہ آئین پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے والے سنگین غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں، لگتا ہے الیکشن کمیشن آئین سے نہیں کہیں اور سے ہدایات لے رہا ہے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے سے متعلق درخواست پر سماعت کی، اس دوران صوبائی حکام سمیت دیگر افراد عدالت میں پیش ہوئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل کہاں ہیں؟ کہ اٹارنی جنرل اگر وزیراعظم کے ساتھ ہیں تو انہیں بتائیں کہ آئین زیادہ اہم ہے۔ عدالت نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے اراکین، اٹارنی جنرل برائے پاکستان کو فوری طور پر عدالت طلب کرلیا۔بعد ازاں عدالت نے طلب کرنے پر اٹارنی جنرل، چیف الیکشن کمشنر اور دیگر اراکین سپریم کورٹ پہنچے، اسی دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لگتا ہے جمہوریت اب ترجیح ہی نہیں رہی۔اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جمہوریت ہی اولین ترجیح ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر موجود ہیں، انہیں ان کا حلف یاد کروانا چاہتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے جارہے، عوام کو جمہوریت سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے، بلدیاتی انتخابات نہ کرا کر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر اور اراکین نے اپنا حلف نہیں دیکھا، کیا چیف الیکشن کمشنر نے آئین نہیں پڑھا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا حکم دیا تھا، کیا آپ نے بلدیاتی انتخابات کے بارے میں حکومت کو آگاہ کیا، کیا معاملہ کابینہ کے سامنے لایا گیا؟اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ کابینہ کے سامنے رکھنے کی ضرورت نہیں، میرے مشورے پر ہی حکومت نے میئر اسلام آباد سےمتعلق نوٹیفکیشن واپس لیا تھا۔جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ ہر ایک اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے بلدیاتی حکومتوں کو تحلیل کر دیا تھا، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ کیا صوبائی حکومت کا بلدیاتی حکومتیں تحلیل کرنا قانونی تھا؟ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب کی حکومت کا اقدام غیرقانونی تھا۔جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ پنجاب حکومت کے خلافغیرآئینی اقدام پر کیا کارروائی کی؟ اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب حکومت نے نیا بلدیاتی قانون بنا لیا ہے، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ آئین پر عمل نہیں کروا سکتے تو صاف بتا دیں۔عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئین کے آرٹیکل 6 کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ آئین پر عملدرآمد میں رکاوٹ ڈالنے والے سنگین غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں، لگتا ہے الیکشن کمیشن آئین سے نہیں کہیں اور سے ہدایات لے رہا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ الیکشننہیں کروا سکتے تو مستعفی ہوجائیں جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کورونا کے باوجود ضمنی انتخاب کروائے، اس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ ضمنی انتخاب کروا کر آپ نے قوم پر احسان نہیں کیا، کیا ضمنی انتخاب کرانے پر قوم آپ کو خراج تحسین پیش کرے؟انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا وجود ہی انتخابات کروانے کیلئے ہے، قوم پر بہت ظلم ہوْچکا، مزید نہیں ہونا چاہیے، آپ آئین نہیں کسی اور کے تابع لگتے ہیں، جمہوریت نہ ہونے کی وجہ سے ملک برباد ہوا۔دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر کیجانب سے خیبرپختونخوا کو ’کے پی‘ کہا گیا جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انہیں جھاڑ دیا اور کہا کہ آپ آئینی عہدیدار ہیں، صوبے کا نام خیبرپختونخوا کیوں نہیں لیتے؟ صوبے کے عوام میں نفرتیں نہ پھیلائیں۔اسی دوران چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ خیبرپختونوا کی بلدیاتی حکومت 25 اگست 2019 میں ختم ہوئی، خیبر پختونوا نے نئے بلدیاتی قوانیں نہیں بنائے، اس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ آئینی ادارے کے سربراہ ہیں، دو سال مکمل ہو گئے، آپ دفتر میں کرتے کیا ہیں، الیکشنز کیتاریخ کیوں نہیں بتا دیتے؟سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 18 اپریل کو بلدیاتی انتخابات کرائیں گے تاہم خیبرپختونخوا حکومت نے تاحال رولز (قواعد) نہیں بنائے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہر بار الیکشن کے لیے نئے قواعد بنائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آپ جس کتاب پر حلف اٹھاتے ہیں اس کا کوئی مطلب ہے یا نہیں؟ ساتھ ہی بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اگر آپ زمینی سطح پر عوام کو اختیارات نہیں دیں گے تو کیسے کام چلے گا؟جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ملک میں خطرناک صورتحال ہے، قدرت نے آپ کو موقع دیا ہے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آخری انتخابات جنرل الیکشن 2018 ہوئے تھے، تب سے الیکشن کمیشن فارغ بیٹھا ہے، الیکشن کمیشن کا وجود ہی الیکشن کرانے کے لیے ہے، چیف الیکشن کمشنر کا نام آئین میں موجود ہے، وہ اپنی طاقت پہچانیں۔بعد ازاں عدالت نے الیکشن کمیشن سے پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بلدیاتی انتخاب کا شیڈول طلب کرلیا۔ ہدایت کی کہ چیف الیکشن کمشنر، اراکین کے ساتھ اجلاس کریں اور اس میں الیکشن شیدول کا معاملہ دیکھیں، مزید یہ کہ اس کی پیش رفت رپورٹ 4 فروری کو جمع کرائیں۔