جہانگیر ترین نے عمران خان سے دوستی کا حق ادا کر دیا وزیراعظم عمران خان کیخلاف بڑی بغاوت روک دی

سینئر تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین ہمیشہ سے پی ٹی آئی میں سرگرم کارکن کے طور پر اپنے کاموں میں مصروف رہے ۔جہانگیر ترین کے ماڈل ٹاؤن والے گھر تحریک انصاف کے 20 سے زائد ارکان کا آنا جانا معمول کی بات ہے مگر انہوں نے ان کو بغاوت سے روک دیا ہے۔ سینئر صحافی نے دعوی کیا ہے کہ مجھے یہ بھی اطلاعات ہیں کہ عمران خان کے کچھ قریبی ساتھی انہیں ورغلا رہے ہیں جس سے وزیراعظم کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے ۔انکا مزید کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے لیگی رہنمائوں کیساتھ بھی رابطے ہیں اور وہ آزاد امیدوار کو اپنے ساتھ جوڑنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں انہیںیا تو پیسوں کی آفر یا پھر وزارت کی پیشکش کی جاتی ہے ۔ دوسری جانب سینئر تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ شہزاد اکبر وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں وزیراعظم جتنا پروٹوکول ملتا ہے تین اہم شخصیات کو انہیں تعینات کروایا جنہوںنےاپوزیشن پر احتساب کا سلسلہ شروع کیا ۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کےدوران سینئر صحافی نےدعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے طاقتور حلقوں سے ڈیل کر لی ہے، اے پی سی بننے کے بعد ایک بندہ بتائیں جسے گرفتار کیا گیا ہو ، خورشید شاہ کی گرفتاری اے پی سی سے پہلے کی ہے ، مراد علی شاہ سمیت دیگر ساتھیوں کے وارنٹ گرفتاری قصہ ماضی ہو گئے ہیں ، آصف زرداری علی پر کھربوں روپے کا کیس قصہ ماضی ہو گیا ، پیپلز پارٹی اچانک امام مسجد بن گئی ۔ان کا کہنا تھا کہ اے پی سی کے بعد مولانا فضل الرحمان ، کیپٹن صفدر ، امیر مقام ، شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کا ایک بندہ نہیں پکڑا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میں مانتا ہوں زرداری صاحب سمارٹ گیم کھیلتے ہیں ، انہوںنے پی ڈی ایم کو بھی ہائی جیک کر لیا کیونکہ ڈیل تھی انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری اپنا کام دکھا گئے ہیں ، سندھ میں پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم میں ہلکی پھلکی نوک جھوک چلتی رہے گی ، یہ میچ فکس ہو گیا ہے ، جب تک طاقتور حلقے نہیں چاہیں گے لانگ مارچ نہیں ہو گا، نہ عدم اعتماد ہو گابلکہ عمران خان کو مضبوط کیا جائے گا ۔