بھارتی کسان کی گردن جوتے سے دبانے کی تصاویر وائرل ہوگئیں، بھوک ہڑتال کا اعلان

بھارت میں کسان مظاہرین اور کسان مخالف گروپ میں جھڑپوں اور مظاہرین پر پولیس تشدد کے دوران ایک شخص کے منہ کو جوتے کے نیچے دبا کر تشدد کرتے پولیس اہلکار کی تصویر پنجابی جارج فلائیڈ کے نام سے وائرل ہوگئی۔دلی کے سنگھو بارڈر پر احتجاجی دھرنا دیے کسانوں پر گذشتہ روز مقامی لوگوں کےایک گروپ نے لاٹھیوں سے حملہ کیا تھا۔حملہ آوروں نے کسان مظاہرین کے خلاف نعرے لگائے اور ان کے ٹینٹ اکھاڑ پھینکے، جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکار کی جانب سے ایک شخص کے چہرے کو جوتے کے نیچے دبا کر تشدد کرنے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔لوگوں نے تصویر کو امریکی پولیس کے سیاہ فام جارج فلائیڈ پر تشدد سے تشبیہ دینا شروع کردی۔ کسان مظاہرین نے پولیس اور مقامی سیاستدانوں پر لوگوں کو کسان مظاہرین کے خلاف اکسانے کا الزام لگایا ہے۔مودی حکومت کے متنازع زرعی قوانین کے خلاف بھارتی کسان کئی ماہ سے سراپا احتجاج ہیں۔بھارت میں مودی سرکار کے زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج کسانوں نے بھوک ہڑتال شروع کردی جبکہ حکومت نے دلی کے اطراف کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کے ساتھ ایک ہفتے جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد کسان مظاہرین ایک روزہ بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔بھارتی وزارت داخلہ نے امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر دلی کے تین سرحدی علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز معطل کرکے اتوار کی رات 11 بجے تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ایک ہفتے کی جھڑپوں کے دوران ایک شخص ہلاک اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے، مودی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف کسان دو ماہ سے زائد عرصے سے دلی کے باہر احتجاج کر رہے ہیں۔ مسئلے کے حل کے لیے کسان رہنمائوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے گیارہ ادوار ناکام ہو چکے ہیں۔