بلاول بھٹو نے آئینی طریقے سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے آئینی طریقے سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے، شازیہ مری نے کہا کہ عمران خان اپنی حرکتوں سے بتاتے ہیں کہ وہ خود نہیں آئے، یہ سلیکٹڈ اور لٹیرے ہیں ۔ کراچی میں فیصل کریم کنڈی نے پی پی لیڈر شازیہ مری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں رہ کر ان کا مقابلہ کریں گے، اس بات پر تمام اتحادی جماعتوں کو راضی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پیٹرول بم گرایا جاتا تھا،اب سمری زیادہ کی بھیجتےہیں ، پھر دو یا تین روپے بڑھا دیتے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ ہمیں 2008 ء میں جب ملک ملا تو بہت مشکل وقت تھا، آٹے چینی کا بحران تھا دہشت گردی عروج پر تھی،جب صدر زرداری آئے تو ہم نے حالات بہتر کیے،ہم نے آئین کو اچھے طریقے سے بحال کیا،جبکہ ان کا پاس ایک ہی بات ہے کہ میں این آر او نہیں دوں گا اس کے علاوہ کوئی بات نہیں۔ پی پی رہنما نے کہاکہ موجودہ حکومت کے بے شمار وعدے ہیں، کہاں ہیں پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں؟، لوگوں کو بے گھر کر کے اپنا گھر ریگولرائز کر لیا کیونکہ شاید وہاں مدینے کی ریاست ہے۔ براڈ شیٹ اس حکومت اور نیب کے خلاف چارج شیٹ ہے،نیب پر اپنی ایف آئی آر ہو گئی ہے۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سینٹ کے الیکشن ہونے والے ہیں اور عمران خان جہاز والا بندہ ڈھونڈ رہے ہیں،جہانگیر ترین صاحب مان نہیں رہے،یہ لوگ سینٹ کا الیکشن سے قبل اپنے اراکین کو ترقیاتی فنڈز دے رہے ہیںیہ کرپشن نہیں تو اور کیا ہے۔ پی پی رہنما نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے 25 ایم پی اے ہم سے رابطے میں ہیں،ہم کسی کی پارٹی نہیں توڑنا چاہتے۔ پریس کانفرنس میں شازیہ مری نے کہا کہ آج مہنگائی میں کس کے خزانے بھر رہے ہیں، ہم پارلیمنٹ کے اندر بھی سوال کریں گے اور باہر بھی، انہیں بھاگنے نہیں دیں گے۔