سپریم کورٹ نے بھارت میں 11 پاکستانی ہندوئوں کے قتل سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت اور وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کر دیا

سپریم کورٹ نے بھارت میں 11 پاکستانی ہندوئوں کے قتل سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت اور وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کر دیئے ۔ منگل کو جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ سید قلب حسن نے کہاکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی انہتا پسندوں نے یہ عمل کیا، ہماری حکومت نے اس معاملے پر زیادہ کاوشیں نہیں کی۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ شیری متی مکھنی کون ہے۔ رمیش کمار نے کہاکہ شیری متی مکھنی کے اہل خانہ ہی ہندوستان میں قتل ہوئے ہیں،ہم نے
پاکستانی دفتر خارجہ اور انڈین ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا، حکومت نے ہائی کمیش کے زریعے معاملہ اٹھایا لیکن انڈین حکومت نے تعاون نہیں کیا۔ دور ان سماعت سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کر تے ہوئے اٹارنی جنرل سے بھی جواب طلب کر لیا ۔ عدالت نے کہاکہ مزید سماعت دو ہفتے بعد ہوگی۔سربراہ پاکستان ہندو کونسل رمیش کمارنے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان کی سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں،سپریم کورٹ پاکستان مین اقلیتوں کے معاملے کر ترجیع بنیادوں پر سنتا ہے،سپریم کورٹ نے انڈیا میں قتل ہونے والے 11 ہندو لوگوں کے معاملے کو بھی سنا،عدالت نے اس معاملے پر فریقین کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں،ہم میتوں کی آخری رسومات ادا کرنا چاہتے ہیں،میں نے عدالت کو کہا ہے کہ مرنے والوں کی میتوں کو ہمارے حوالے کیا جائے،عدالت نے اس معالے پر اٹارنی جنرل سے تفصیلات مانگی ہیں،یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ بھارت نے آج تک میتوں کو حوالے کیوں نہیں کیا گیا،سپریم کورٹ نے ایک باب رقم کر دیا ہے کہ پاکستان میں ہی نہیں ملک سے باہر بھی اقلیتوں کا تحفظ کیا جائے گا۔