عملی طور پر اسٹیل مل کا کوئی وجود نہیں ہے ، آج تالا لگانے کا حکم دیں گے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے پاکستان اسٹیل مل کی حالت زار کا ذمہ دار انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ ملازمین سے پہلے تمام افسران کو نکالیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستان اسٹیل ملازمین کی پروموشن سےمتعلق کیس پر سماعت ہوئی ، سماعت میں چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا مل ہی بند پڑی ہے تو 439 افسران کر کیا رہے ہیں؟ آج ہی ہم حکم جاری کرینگے کہ پاکستان اسٹیل کو بند کر دیں ، آج ہم اسٹیل مل کے ورکرز کو نوکریوں سے برطرف کردیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر کوئی غلط کام نہیں ہوسکتا۔ ۔چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا کیا حکومت نے اسٹیل مل انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی؟ انہوں نے ریمارکس دئے کہ اسٹیل ملز انتظامیہ اور افسران قومی خزانے پر بوجھ ہیں، مل بند پڑی ہے تو انتظامیہ کیوں رکھی ہوئی ہے؟ بند اسٹیل مل کو کسی ایم ڈی یا چیف ایگزیکٹو کی ضرورت نہیں۔ ملازمین سے پہلے تمام افسران کو اسٹیل مل سے نکالیں۔ جس پر وکیل پاکستان اسٹیل نے بتایا کہ تمام انتظامیہ تبدیل کی جا چکی ہے، اسٹیل ملز میں 1800 سے زائد افسران تھے جن میں سے اب 439 رہ گئے ہیں، اسٹیل ملز کا یومیہ خرچ 2 کروڑ روپے تھا جو اب ایک کروڑ رہ گیا ہے، اب تک 49 فیصد ملازمین نکال چکے مزید کے لیے عدالتی اجازت درکار ہے، لیبر کورٹ کی اجازت کے بغیر مزید ملازمین نہیں نکال سکتے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا انتظامیہ تبدیل کرنے سے کیا مل فعال ہو جائے گی؟ پاکستان کےعلاوہ پوری دنیا کی پاکستان اسٹیل منافع میں ہیں، پاکستان اسٹیل میں اب بھی ضرورت سے زیادہ عملہ موجود رہےگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اجازت براہ راست سپریم کورٹ دے گی، لیکن پہلے افسران کونکالیں ۔ انہوں نے ریمارکس دئے کہ سیکرٹریز کے کام نہ کرنے سے ہی ملک کا ستیاناس ہوا، سیکرٹریز کوڈر ہے کہیں نیب انہیں نہ پکڑ لے، پہلے بھی تو سیکرٹریز کام کرتے تھے اب پتہ نہیں کیا ہو گیا، آج سےکسی ملازم کوادائیگی نہیں ہو گی، جب مل نفع ہی نہیں دیتی تو ادائیگیاں کس بات کی، ملازمین کو بیٹھنے کی تنخواہ تو نہیں ملے گی۔ وکیل ملازمین نے عدالت میں کہا کہ اسٹیل مل ملازمین کام کرنے کو تیار ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسٹیل مل میں بعض لوگوں نے بھرتی سے ریٹائرمنٹ تک ایک دن بھی کام نہیں کیا، مل کا 212 ارب کا قرضہ کون ادا کرے گا؟ مینجمنٹ اور ورکرز کو ادارے کا احساس ہی نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مفت کی دکان سے جس کا جی چاہتا ہے لے جاتا ہے، اسٹیل مل کو کسی بھی ورکر یا افسر نے اپنا خون نہیں دیا،۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا مل بند ہے لیکن ملازمین ترقیاں مانگ رہے ہیں ، اسٹیل مل کبھی ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی تھی ۔ وکیل ملازمین کا کہنا تھا کہ مل بند پڑی ہے تو حکومت چلائے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ اسٹیل مل کے چیئرمین کہاں ہیں ؟ جس پر وکیل پاکستان اسٹیل مل نے بتایا چیئرمین بیرون ملک ہیں ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اسٹیل مل کے چیئرمین سرکاری خرچے پر ہیں ؟ جس پر وکیل نے کہا کہچیئرمین اپنے خرچ پر باہر گئے، تنخواہ بھی نہیں لے رہے تو جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ سیکرٹری صاحب بابو والانہیں افسر والا کام کریں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب مل ہی نہیں چل رہی تولوگوں کی کیا ضرورت ہے، پاکستان اسٹیل نےایک دن کام کیے بغیر30 سال کی تنخواہیں اورمراعات لیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ مل ایک ڈھیلانہیں بنا رہی اور ملازمین بونس مانگ رہے ہیں۔ سیکریٹری صنعت وپیداوارعدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا سیکریٹری صاحب اسٹیل ملزسے متعلق آپ کا کیا پلان ہے، سیکریٹری نے بتایا کہ حکومت پاکستان نے اسٹیل ملز کی نجکاری کاپراسس شروع کردیا ہے، آنےوالے اگست اور ستمبرتک نجکاری اپنے حتمی مراحل میں شروع ہوجائےگی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا سیکریٹری صاحب آپ خیالی دنیا سے باہر آئیں، 212ارب اور4 ہزار ملازمین کی موجودگی میں کون مل خریدے گا، عدالت نے سیکریٹری نجکاری سیکٹر،وزیر نجکاری،چیئرمین پلاننگ کمیشن ، وزیرانڈسٹریز بھی طلب کرلیا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ملک میں کوئی وفاقی سیکرٹری کام نہیں کر رہا، تمام سیکرٹریز صرف لیٹر بازی ہی کر رہے ہیں جوکلرکوں کا کام ہے، سمجھ نہیں آتا حکومت نے سیکرٹریز کوکیوں رکھا ہوا ہے؟ اکستان اسٹیل ملازمین کی پروموشن سےمتعلق سماعت میں چیف جسٹس نے اسٹیل ملز بند نے کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیل مل کے بقیہ 3700 ملازمین اور مل کے 437 میں سے 390 افسران کوبھی آج فارغ کریں گے ، آج سٹیل مل کو تالا لگانے کو حکم دیں گے،عملی طور پر اسٹیل مل کا کوئی وجود نہیں ہے۔