ٹک ٹاکر مسکان اور قتل کرنے والے ملزم کے مابین لڑائی کی وجہ سامنے آ گئی

گارڈن ٹاؤن میں قتل کی گئی خاتون ٹک ٹاکر اور ساتھیوں کی ہلاکت کے واقعے میں مزید اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔پولیس کے مطابق فائرنگ میں ملوث شخص چند لمحے پہلے تک مقتولہ مسکان سے رابطے میں تھا۔فائرنگ کے مقام پر حملہ آور مسکان اور ساتھیوں کے آنے کا انتظار کرتا رہا۔پولیس نے بتایا کہ مقتولہ مسکان اور تین دوست انکل سریا اسپتال پہنچے تو قاتل اور مقتولین کی گفتگو ہوئی۔ پانچ منٹ گفتگو کرنے کے بعد مسکان گاڑی میں بیٹھی تو ملزم نے فائرنگ کر دی۔ملزم نے گاڑی کی پچھلی جانب سے فائرنگ کی تھی،جس پر دیگر دوست اتر کر بھاگے اور گاڑی پر فائر کی جانے والی گولی مسکان کو لگی۔فائرنگ کے بعد ملزم فرار ہوا۔جس کی آخری لوکیشن مظفر آباد کالونی سامنے آئی ملزم کی تلاش میں رات بھر پولیس کی چھاپہ مار کارروائیاں جاری رہیں۔ معلوم ہوا کہ مقتولہ مسکان نے عامر کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی۔جس پر ملزم اور مقتولہ مسکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔مقتولہ مسکان کا اصل نام رقیہ عرف مسکان ہے۔مقتولہ نے گذشتہ سال دو ملزمان کے خلاف زیادتی اور تشدد کا مقدمہ بھی درج کرایا تھا۔ مسکان کا پُرانا دوست عبد الرحمان مبینہ طور پر منشیات فروش تھا جس پر مسکان کے قتل کا شُبہ ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے قبل بھی عبد الرحمان نے صدام اور عامر نامی دو افراد کے ساتھ مسکان کے پاس فائرنگ کی تھی۔ جس کے بعد ان کی صلح صفائی سائیں تنولی کے ڈیرے پر ہوئی تھی۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ مسکان نے قائد آباد تھانے میں ایک درخواست بھی دائر کی تھی کہ یہ مجھے دھمکیاں دے رہا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹک ٹاکر مسکان کی دوستی عامر سے پہلے عبد الرحمان سے تھی جس کے لیے وہ مبینہ طور پر منشیات سپلائی کا کام بھی کرتی تھیں۔ ذرائع کے مطابق مسکان منشیات فروشی کا باقاعدہ ایک سرکٹ چلا رہی تھیں اور ذرائع کے مطابق وہ آئس سپلائی کرتی تھیں۔