لودھراں، ہسپتال ملازمین کی لڑکی سے مبینہ طور پر زیادتی

جنوبی پنجاب کے علاقے لودھراں میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کے 2 ملازمین نے لڑکی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کے سی ڈی سی سپروائزر نے 20 ہزار کے عوض نوکری دینے کا کہا، نوکری آرڈر کے بہانے بلایا اور ساتھی سمیت زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کا میڈیکل کروا لیا ہے اور ابتدائی رپورٹ میں لڑکی سے زیادتی ثابت ہوئی ہے، دونوں ملزمان محکمہ صحت کے ملازم اور عبوری ضمانت پر ہیں۔بتایا گیا ہے کہ آئی جی پنجاب انعام غنی نے لودھراں میں اسپتال ملازمین کی لڑکی سے مبینہ زیادتی کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او ملتان سے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ آئی جی پنجاب نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ انصاف کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقہ مزنگ میں20 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے افسوسناک واقعے کی تفتیش کے دوران مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس نے لڑکی کی شکایت پر دو نامزد ملزمان احسان اور حسن کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار بھی کر لیا ۔ اس واقعے کے حوالے سے متاثرہ لڑکی کے والد کی جانب سے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ ملزمان ان کے آدھےگھر پر قابض ہیں اور پورے گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ملزمان انہیں ڈراتے دھمکاتے رہتے تھے۔ اس تمام صورتحال میں گھرکاقبضہ چھڑانے کیلئے وزیراعظم پورٹل پر درخواست کی تو ملزمان بپھرگئے اور بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ جبکہ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پولیس نے ملزمان کیخلاف درج مقدمے میں جائیداد پر قبضے کے معاملے کا ذکر ہی نہیں کیا۔ متاثرہ خاندان کی جانب سے ناصرف اپنی بیٹی کو انصاف دلوانے بلکہ جائیداد کا تنازعہ بھی حل کروانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں گزشتہ چند ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے جنسی زیادتی کیسز کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔