پنجاب حکومت کا قبضہ مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن جاری، سینکڑوں کنال اراضی واگزار

پنجاب حکومت کی جانب سے قبضہ مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن تیزی سے جاری ہے۔ لاہور کے بعد جنوبی پنجاب کے علاقوں سے بھی سرکاری زرعی اور کمرشل اراضی واگزار کروا لی گئی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت نے مظفرگڑھ میں کروڑوں روپے مالیت کی کمرشل اور زرعی سرکاری اراضی واگزار کرا لی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی پنجاب کے علاقے لودھراں میں بھی سرکاری زمین پر زیر تعمیر غیر قانونی گھر مسمار کر دیا گیا، کارروائی چک 37 میں کی گئی ہے۔ اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ قابضین سے 102 کنال اراضی واگزار کروا کر فصلوں پر ہل چلا دیے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مظفر گڑھ میں واگزار کروائی گئی کمرشل اور زرعی سرکاری اراضی کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے قبضہ مافیا کیخلاف کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں، گزشتہ ماہ لاہور انتظامیہ نے لیگی رہنما سیف الملوک کھوکھر سے 38 کنال اراضی واگزار کروا لی تھی ۔ اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ایل ڈی اے کی جانب سے قبضہ کی گئی سرکاری زمین واگزار کروانے کے لیے اتوار کے روز ایک گرینڈ آپریشن کیا گیا ۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی کھوکھر پیلس کے اطراف موجود تھی ۔ کھوکھر برادران سے 38 کنال زمین واگزار کروا کر پنجاب حکومت کے حوالے کردی گئی ہے ۔ واگزار کروائی گئی زمین کی مالیت سو ارب روپے ہے۔ کھوکھر برادران نے جعلسازی سے زمین پر قبضہ کیا تھا ۔انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے کھوکھر پیلس سے ملحقہ سیف مارکیٹ بھی مسمار کردیا جبکہ سیف الملوک کھوکھر کے برادر نسبتی کا گھر بھی گرا دیا گیا ہے جبکہ سیف الملوک کھوکھر کے بھانجے طاہر جاویدکے گھر کو بھی مسمار کردیا گیا ہے۔ لاہور انتظامیہ کی جانب سے آپریشن ن لیگی رہنما سیف الملوک کھوکھر کے گھر کے اطراف کیا گیا ۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے رات میں ہی کھوکھر پیلس کے اطراف کے راستے بند کر دیے تھے۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کھوکھر برادران کو زمین چھوڑنے کے لئے نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود زمین خالی نہ کی گئی ۔ زمین خالی نہ کرنے پر عملدرآمد نہ کرنے پر آج گرینڈ آپریشن کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کلکٹر اشتمال کے فیصلے کی روشنی میں آج آپریشن کرکے زمین واگزار کرائی گئی ہے ۔ دوسری جانب سیف الملوک کھوکھر کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود آپریشن کیا گیا۔ یہ سراسر سیاسی انتقام لیا گیا ہے ۔ ان الزامات کے جوابات میں ڈپٹی چیئرمین ایل ڈی اے کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس زمین کی ملکیت کے کاغذات ہیں تو وہ پیش کرے۔ ایل ڈی اے نے سیاسی تشخص کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کارروائی کی ہے۔