عالمی عدالت نے فلسطین میں ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیق کا عندیہ دے دیا

عالمی عدالت نے ان کے معاملے میں تحقیق کرنے کا عندیہ دے دیا ہے جس پر اسرائیل جل بھن رہا ہے۔اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کی تحقیقات سے متعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ‘یہودیوں کیخلاف نظریات’ قرار دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جنگی جرائم کی تحقیقات کی راہ ہموار کرنے والے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے پر برہمی کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا اور کہا کہ یہ ”’خالصتاً یہودی مخالف جذبات’ ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کے وزیر اعظم کی حیثیت سے میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں ہم انصاف کے تحفظ کے لیے اپنی پوری طاقت سے لڑیں گے۔ واضح رہے کہ آئی سی سی نے فیصلہ دیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کا دائرہ اختیار رکھتا ہے جس سے ٹریبونل کو جنگی جرائم کی تحقیقات کا راستہ ہموار ہوگا۔آئی سی سی کے پراسیکیوٹر فتوؤ بینسودا نے عدالت سے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں تک عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق قانونی رائے طلب کی تھی۔آئی سی سی نے کہا کہ ان کے ججوں کی اکثریت نے یہ فیصلہ سنایا کہ عدالت کا دائرہ اختیار 1967 سے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں یعنی غزہ اور مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم تک پھیلا ہوا ہے۔