فواد چوہدری نے سینیٹ الیکشن 2018ء میں ووٹ خرید کر جیتنے والے 2 سینیٹرز کے خلاف آرٹیکل 63 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سینیٹ الیکشن 2018ء میں ووٹ خرید کر جیتنے والے 2 سینیٹرز کے خلاف آرٹیکل 63 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ رشوت لینے والے تو پکڑے گئے، اب میڈیا سے درخواست ہے تھوڑی سی تحقیق کریں کے 2018 میں ان ووٹوں سے کون سینیٹر بنا؟ کیا ان 2 سینیٹرز کو ایوان میں رہنے کا حق ہے؟۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے اور آرٹیکل 63 کے تحت کاروائی عمل میں لائے۔دوسری طرف وزیراعظم نے سینیٹ انتخابات کے لیے پیسے تقسیم کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد تحقیقات کا حکم دے دیا ، مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ جب بریکنگ نیوز چلی تو اس وقت کابینہ اجلاس بھی چل رہا تھا، میں نے وزیراعمط کو آگاہ کیا کہ خبر چل رہی جس پر وزیراعظم نے سارے معاملے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ویڈیو 2018ء کی ہے ، کے پی کے سے متعلق بھی ہے ، ے پی میں پارٹی پوزیشن دیکھ لیں، کس نے سینیٹ کی کتنی نشستیں نکالیں ،پیپلز پارٹی ایک نشست بھی نہیں نکال سکتی تھی لیکن انہوں نے دو نکالیں ،ایسی ویڈیوز کو الیکشن کمیشن میں دینا چاہئیے ،الیکشن کمیشن کو نوٹس لینا چاہئیے،عدالتوں میں بھی ایسے کیسز کیے جا سکتے ہیں کہ پیسوں کا لین دین کیا گیا،ساری چیزیں موجود ہیں لہذا اس پر کارروائی ہونی چاہئی، ہم نے پیسے لینے پر 20 لوگوں کوپارٹی سے نکالا۔ماضی میں بھی فوٹیجز آئیں لیکن کارروائی نہیں ہوئی۔

This Post Has 4 Comments

  1. bitexen güvenilir mi

    Bitexen güvenilir mi öğrenmen için tıklayın ve bitexen güvenilir mi sorusuna hemen cevap bulun. Bitexen güvenilir
    mi? İşte cevabı.

  2. kripto para satın al

    Kripto para satın al sayfamızdan kripto para satın al.
    Kripto para nasıl satın alınır öğrenmek için kripto para satın al sayfamıza
    uğra.

  3. bitcoin hesabı açma

    Bitcoin hesabı açma sayfamızdan bitcoin hesabı açma nasıl yapılır öğren.c

  4. güvenilir mi yasal mı

    Güvenilir mi yasal mı merak ediyorsanız güvenilir mi yasal mı sitemize bekleriz.a

Comments are closed.