سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں برابر اضافے اور سرکاری محمکوں کی نجکاری کے خلاف کل ڈی چوک پر دھرنا دینے اور دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی اصولی منظوری دے دی، دوسری جانب حکومتی کمیٹی کے احتجاجی سرکاری ملازمین سے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں، سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں برابر اضافے، سکیل اپ گریڈیشن اور سرکاری محمکوں کی نجکاری کے خلاف کل ڈی چوک پر دھرنا دینے اور دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کردیا۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے سرکاری ملازمین کے احتجاج کے بارے میں بریفنگ دی، اجلاس میں مختلف اداروں کے سربراہان کی خالی نشستوں کی رپورٹ بھی پیش کی گئی جس کے مطابق 80 محکموں کے سربراہان اور سی ای اوز کی اسامیاں خالی ہیں۔ وزیر اعظم نے پوسٹیں خالی ہونے کا سختی سے نوٹس لیا اور متعلقہ سیکرٹری کی سرزنش کی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ صوبائی حکومتیں دیکھیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی روشنی میں گریڈ ایک سے 16 تک کے تین لاکھ 70 ہزار ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگا۔ نجی ٹی وی سما کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 24 سے 40 فیصد تک اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔