پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بٹ کوائن تاوان وصولی کی واردات

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بٹ کوائن کے ذریعے تاوان وصولی کی انوکھی اور اپنی نوعیت کی پہلی واردات سامنے آئی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں دو غیر ملکی باشندوں سے ڈیڑھ کروڑ روپے مالیت کے بٹ کوائن تاوان وصولی کا پہلا کیس سامنے آیا جبکہ آن لائن کرنسی کی شکل میں تاوان کی وصولی کے کیس میں رانا عرفان محمود اور اس کے نامعلوم ساتھیوں کے خلاف مقدمہ تھانہ ریس کورس میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ڈکیتی کی یہ واردات سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کے شہریوں کے ساتھ پیش آئی۔ ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ میگرون ماریا سپاری اور اسٹیفن نامی سوئس اور جرمن شہری 10 فروری کو لاہور آئے، دونوں غیر ملکیوں کو رانا عرفان نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بلایا تھا، پاکستان پہنچنے پر دونوں نے مال روڈ پر معروف ہوٹل میں قیام کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق رانا عرفان سیر کے لیے دونوں غیر ملکیوں کو ہوٹل کی گاڑی میں اپنے ہمراہ لے گیا، پھر اس نے ہوٹل کی گاڑی واپس بھجوا دی اور 2 نئی گاڑیوں میں دونوں غیر ملکی باشندوں کو کہیں اور لے گیا۔ ایک مقام پر ویرانے میں نیلی لائٹ والی پرائیویٹ گاڑی نے غیر ملکیوں کو روک کر تلاشی لی، ایک آدمی نے غیر ملکی شہری اسٹیفن کوگاڑی سے نکالا اور کپڑوں پر ہیروئن پاؤڈر ڈال دیا جس کے بعد ملزمان نے دونوں غیر ملکی شہریوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور ایک ڈیرے میں لے گئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ملزمان نے غیر ملکیوں کو منشیات کیس کی دھمکی دے کر آن لائن پیسے منگوائے۔ ملزمان نے 63000 یورو (1 کروڑ 47 لاکھ روپے) مالیت کے 1.8 بٹ کوائن ٹرانسفر کروائے۔ ایف آئی آر کے مطابق موقع پر جعلی پریس ٹیم نے بلیک میلنگ کی غرض سے ویڈیو بھی بنائی، ملزمان نے مزید 30 کروڑ روپے کا تقاضا کیا، اور نہ دینے پر ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی۔