ایم این اے کنول شوذب اور پڑوسی کے جھگڑے کا ڈراپ سین ہو گیا

ایم این اے کنول شوذب اور پڑوسی کے جھگڑے کا ڈراپ سین ہو گیا۔دونوں میں فریقوں میں صلح ہو گئی ہے۔کنول شوذب اور پڑوسی عبدالرحمان نے عدالت میں بیان دیا کہ ہماری صلح ہو گئی ہے،اس لیے اپنے مقدمات واپس لیتے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے صلح قبول کر لی تاہم ایف آئی اے کا اختیار سے تجاوز بادی النظر میں خلاف قانون قرار دیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ عوامی عہدہ رکھنے والی ایم این اے نے تنقید پر فوجداری مقدمہ کیسے قائم کرایا؟ منتخب ایم این اے نے تنقدی پر پڑوسی سے جھگڑے کو کریمنل کیس بنا دیا۔ہر کوئی دوسرے کا احتساب چاہتا ہے لیکن خود کو طاقتور بنا کر احتساب سے بچا لیتا ہے۔ایف آئی اے نے الیکٹرنک کرائم قانون کا ناجائز استعمال کر کے طاقتور کو فائدہ دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ صلح پر فریقین کا کیس ختم کرتی ہے لیکن ایف آئی اے کی حدود متعین کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کی ممبر قومی اسمبلی کنول شوذب اور شہری کے درمیان جھگڑے کے معاملے پر ایم این اے کے وکیل نے عدالت کو معاملہ باہمی رضا مندی سے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن کورٹ اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف کی ترجمان اور رکن قومی اسمبلی کنول شوذب کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا ، پڑوسی خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ کنول شوذب نے درخت کاٹنے پر گارڈ کے ہمراہ زدوکوب کیا ، عبدالرحمن نامی شہری نے کنول شوذب کے خلاف مقدمہ درج کروانے کی درخواست کی۔