مشاہداللہ خان کو اسلام آباد کے ایچ11قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسلام آباد میں انتقال کر گئے ہیں 68 سالہ مشاہداللہ خان کو مسلم لیگ (ن) کی جانب سے آئندہ سینیٹ انتخابات میں عام نشست پر الیکشن لڑنے کے لے ٹکٹ بھی جاری کیا گیا تھا ان کی نمازِ جنازہ آج دوپہر ادا کی جائے گی مرحوم کے صاحبزادے افنان اللہ خان کے مطابق مشاہد اللہ خان کی نمازِ جنازہ دوپہر اڑھائی بجے اسلام آباد میں ادا کی جائے گی جس کے بعد انہیں ایچ 11 قبرستان اسلام آباد میں سپردِ خاک کیا جائے گا. مشاہد اللہ خان کی پیدائش 1953 میں راولپنڈی میں ہوئی ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی اورپھر کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اس وقت وہ ایوی ایشن کمیٹی کے چیئرپرسن تھے. ہاﺅس آف بزنسز کی ایڈوائزری کمیٹی، پارلیمینٹری کمیٹی برائے کشمیر، پارلیمینٹری کمیٹی برائے نیشنل سکیورٹی، چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشن آف پاکستان کے تقرر سے متعلق کمیٹی کے ممبر سمیت کل 12 کمیٹیوں کے رکن بھی تھے 1975 سے 1997 تک پی آئی اے کے ٹریفک سپروائزر رہے.
1997 سے 1999 تک افرادی قوت اور سمندر پار پاکستانیوں سے متعلق وزارت میں ایڈوائزر رہے 1999 میں کراچی میونسپل کارپوریشن میں ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر گئے لیکن پھر پرویز مشرف کی جانب سے مارشل لا لگائے جانے کے بعد تین ماہ بعد ہی انھیں یہ عہدہ چھوڑنا پڑا وہ 1994 سے 1999 تک سیکرٹری جنرل لیبر وونگ کے عہدے پر رہے اور 2000 سے 2001 تک مسلم لیگ (ن )کے چیف کوارڈینیٹر رہے 2002 سے لے کراب تک وہ مسلم لیگ( ن) کے مرکزی نائب صدر تھے.