سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈ میں عطیہ کی گئی زمین مالک کو واپس کر دی

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈیم فنڈ میں عطیہ کی جانے والی زمین مالک کا واپس کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ڈیم فنڈ میں 12 کنال اراضی عطیہ کرنے سے متعلق معاملے کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈ میں عطیہ 12 کینال زمین کے کاغذات مالک کو واپس کر دیے۔ عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ملکیت کی دستاویز شیخ آفتاب الٰہی کے حوالے کرنے کی ہدایت کی۔ دوران سماعت شیخ شاہد آفتاب الہی نے کہا کہ قبضہ مافیا سے تنگ آکر زمین ڈیم فنڈ میں عطیہ کی۔ بدمعاشوں نے زیادتی کی، پرچہ بھی ہمارے خلاف درج کروایا گیا۔ جس پر درخواستگزار کے بیٹے فیضان نے کہا کہ ہمارے والد نے ڈپریشن کی وجہ سے زمین فنڈ میں عطیہ کی۔ درخواستگزار کے بیٹے کی بات پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں کیا تماشہ لگایا ہوا ہے؟ آپ لوگ عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ انہوں نے درخواستگزار کے بیٹے کے بیان پر کہا کہ چار پیسوں کے لیے اپنے والد کو ڈپریشن کا مریض کہہ رہے ہو، ڈیم فنڈ میں زمین عطیہ کرنی ہے تو خوشی سے دیں، لے جائیں اپنی زمین کی دستاویزات۔ جس کے بعد ڈیم فنڈ میں عطیہ کی گئی زمین مالک کو واپس کر دی گئی۔ ملک میں آبی مسائل اور آبی قلت کے پیش نظر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہی ڈیمز کی تعمیر کا حکم دیا تھا جس کے بعد انہوں نے ڈیمز کی تعمیر کے لیے ایک فنڈ بھی قائم کیا جس کا نام بعد میں ”چیف جسٹس وزیراعظم ڈیم فنڈ” رکھ دیا گیا تھا۔ اس ڈیم فنڈ میں اندرون اور بیرون ملک سے پاکستانیوں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا تھا۔