ڈسکہ میں پولنگ اسٹیشن کے باہر مسلم لیگ ن کے کارکنان ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے

این اے 75 ڈسکہ میں گزشتہ روز ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ ہوئی لیکن نامعلوم افراد کی فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے باعث پولنگ کا عمل شدید متاثر ہوا۔ اس حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے بیوروچیف نے ہنگامہ آرائی کے دوران آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا کہ سارا دن پولنگ اسٹیشنز کے باہر سب سے زیادہ ہنگامہ آرائی میں مسلم لیگ ن کے ورکرز نظر آئے، انہوں نے کہا کہ فائرنگ کرنے والوں کو تو ہم نہیں دیکھ سکے، اُن کی شناخت تو پولیس کی جانب سے گرفتاری کے بعد ہی ہو سکے گی لیکن جہاں تک ہنگامہ آرائی کی بات ہے تو اس میں مسلم لیگ ن کے ورکرز ہی دکھائی دے رہے تھے۔ بیوروچیف محسن نقوی نے کہا کہ اس میں دو پہلو ہیں، پاکستان تحریک انصاف والے کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ن نے صبح اپنے ووٹرز کو بھجوا دیا اور ووٹ کاسٹ ہو گئے جس کے بعد انہوں نے ہنگامہ آرائی شروع کی لیکن میرے ذاتی خیال کے مطابق مسلم لیگ ن کے کارکنان نے جہاں ہنگامہ آرائی کی ، اُس علاقہ کو ن لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، مسلم لیگ ن کے کارکنان نے فائرنگ کے بعد خود ہی اپنے ووٹرز کو گھروں تک محدود کر دیا تھا جس کے باعث ٹرن آؤٹ کم ہوا، لوگ گھروں سے نکلنا کم ہو گئے۔