ڈاکٹر ماہا خودکشی کیس میں نیا موڑ آ گیا

ڈاکٹر ماہا خودکشی کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے۔پولیس نے جنید خان اور وقاص رضوی کو مشکوک ملزم قرار دیا ہے۔ جنید خان قتل بالسبب کا مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے جب کہ ڈاکٹر عرفان کو بے گناہ قرار دیا گیا۔ڈاکٹر عرفان اور تابش کے ڈاکٹر ماہا سے زیادتی کے شواہد نہیں ملے۔خودکشی سے قبل ڈاکٹر ماہا ڈاکٹر عرفان کا انتظار کرتی رہی تھی لیکن وہ مریضوں کو چیک کرنے میں مصروف تھے جس وجہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ ماہا نے میسجز کے ذریعے ملاقات نہ ہونے کا گلا بھی کیا جس سے تاثر ملتا ہے کہ اس روز دونوں کی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔کلینک میں ڈاکٹر ماہا کے ساتھ فحش حرکات کا الزام بھی جھوٹا ثابت ہوا ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کے شواہد نہیں ملے۔ ڈاکٹر ماہا کوکین اور دیگر منشیات کی عادی تھی۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر ماہا کو نشہ آور اشیا انمول عرف پنکی اور اس کا گروپ سپلائی کرتا ہے۔ سعدی صدیقی اور تابش نے غیر قانونی طور پر ڈاکٹر ماہا کو پستول فراہم کیا اور اسی پستول سے ڈاکٹر ماہا نے خودکشی کی تھی۔واضح رہے کہ کراچی میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا شاہ کے ساتھ خودکشی سے قبل مبینہ طور پر زیادتی کا بھی انکشاف ہوا تھا۔تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ میر پور خاص میں ڈاکٹر ماہا کی قبر کشائی کی گئی تھی۔ میڈیکل بورڈ نے ڈاکٹر ماہا کا پوسٹ مارٹم کیا۔ خودکشی سے قبل ڈاکٹر ماہا کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔پوسٹ مارٹم میں ایک مرد ڈی این اے کا پتہ لگا۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے 7 مشتبہ ملزمان کا ڈی این اے حاصل کیا جائے گا۔ملزم جنید کی جانب سے تاحال ڈی این اے کا سیمپل نہیں دیا گیا۔ملزم کے ڈی این اے کرانے کے بعد حتمی چالان جمع کروانا ہو گا۔ ڈاکٹر ماہا کے جسم سے ملنے والے نمونے جامشورو لیبارٹری میں ہیں۔ملزمان کے ڈی این ٹیسٹ جامشورو لیبارٹی میں کیے جائیں گے۔ڈاکٹر ماہا کی موت کو خودکشی قرار دیا جا چکا تھا۔تاہم ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے بعد خدشات نے جنم لیا تھا کہ گولی بائیں جانب سے لگ کر دائیں جانب سے نکلی ہے، جس کے بعد واقعے کو قتل قرار دیا جا رہا تھا۔